اے اللہ، آسمانوں، زمین اور عظیم عرش کے رب، ہمارے اور ہر چیز کے رب، دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والے، تورات، انجیل اور فرقان نازل کرنے والے! میں ہر اس چیز کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جس کی پیشانی تیرے قبضے میں ہے۔ اے اللہ، تو اول ہے، تجھ سے پہلے کچھ نہیں؛ تو آخر ہے، تیرے بعد کچھ نہیں؛ تو ظاہر ہے، تیرے اوپر کچھ نہیں؛ تو باطن ہے، تجھ سے زیادہ قریب کچھ نہیں۔ ہمارا قرض ادا فرما اور ہمیں فقر سے بے نیاز کر۔
آخر میں اللہ سے قرض کی ادائیگی اور فقر سے بے نیازی مانگی گئی ہے۔ ابو ہریرہ کے مطابق رسول اللہ ﷺ سوتے وقت یہ کہنے کا حکم دیتے تھے (مسلم ۲۷۱۳b؛ مکمل کلمات ۲۷۱۳a میں)۔ فاطمہ نے خادم مانگا تو انہیں بھی یہی سکھایا (مسلم ۲۷۱۳c)۔
اے اللہ، میں گناہ اور قرض سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔
نبی ﷺ نماز میں یہ کہتے۔ جب پوچھا گیا کہ قرض سے اتنی پناہ کیوں مانگتے ہیں تو فرمایا کہ مقروض بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کرتا ہے تو توڑ دیتا ہے (عائشہ)۔
آپ کہہ دیجئے اے اللہ! اے تمام جہان کے مالک! تو جسے چاہے بادشاہی دے اور جس سے چاہے سلطنت چھین لے اور تو جسے چاہے عزت دے اورجسے چاہے ذلت دے، تیرے ہی ہاتھ میں سب بھلائیاں ہیں[1] ، بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔
تو ہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں لے جاتا ہے[1] ، تو ہی بے جان سے جاندار پیدا کرتا ہے اور تو ہی جاندار سے بے جان پیدا کرتا ہے[2]، تو ہی ہے کہ جسے چاہتا ہے بے شمار روزی دیتا ہے۔