بخشش مانگنا
×۳أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ
میں اللہ سے بخشش مانگتا ہوں۔
نبی ﷺ نے تین بار بخشش مانگی؛ روایت بیان کرنے والے اوزاعی نے اس کے الفاظ «استغفر اللہ» بتائے۔
ہر فرض نماز کا سلام پھیرنے کے فوراً بعد۔
أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ
میں اللہ سے بخشش مانگتا ہوں۔
نبی ﷺ نے تین بار بخشش مانگی؛ روایت بیان کرنے والے اوزاعی نے اس کے الفاظ «استغفر اللہ» بتائے۔
اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلاَمُ وَمِنْكَ السَّلاَمُ تَبَارَكْتَ ذَا الْجَلاَلِ وَالإِكْرَامِ
اے اللہ، تو سلام ہے اور سلامتی تجھ سے ہے، تو بڑی برکت والا، عظمت اور عزت والا ہے۔
مختصر بات: نبی ﷺ نماز کے بعد تین بار بخشش مانگتے پھر یہ دعا کہتے تھے۔
لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهْوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ لاَ مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلاَ مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلاَ يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ
اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ بادشاہی اور حمد اسی کی ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ، تیری عطا کوئی روک نہیں سکتا اور تیرا روکا کوئی دے نہیں سکتا۔ مال والے کا مال تیرے سامنے اسے فائدہ نہیں دیتا۔
مختصر بات: نبی ﷺ ہر فرض نماز کے بعد یہ کہتے تھے۔
سُبْحَانَ اللَّهِ
اللہ ہر عیب سے پاک ہے۔
مختصر بات: نبی ﷺ نے نماز کے بعد تسبیح، تحمید اور تکبیر تینتیس تینتیس بار، پھر سو پورا کرنے کے لیے تہلیل سکھائی۔
الْحَمْدُ لِلَّهِ
سب تعریف اللہ ہی کی ہے۔
مختصر بات: نبی ﷺ نے نماز کے بعد تسبیح، تحمید اور تکبیر تینتیس تینتیس بار، پھر سو پورا کرنے کے لیے تہلیل سکھائی۔
اللَّهُ أَكْبَرُ
اللہ سب سے بڑا ہے۔
مختصر بات: نبی ﷺ نے نماز کے بعد تسبیح، تحمید اور تکبیر تینتیس تینتیس بار، پھر سو پورا کرنے کے لیے تہلیل سکھائی۔
لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ
اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ بادشاہی اور حمد اسی کی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
مختصر بات: نماز کے بعد تینتیس تینتیس بار تسبیح، تحمید اور تکبیر، پھر اسے کہہ کر سو پورا کرنے والے کے گناہ بخشے جاتے ہیں چاہے سمندر کی جھاگ جیسے ہوں۔
ٱللَّهُ لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلْحَىُّ ٱلْقَيُّومُۚ لَا تَأْخُذُهُۥ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌۚ لَّهُۥ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِۗ مَن ذَا ٱلَّذِى يَشْفَعُ عِندَهُۥٓ إِلَّا بِإِذْنِهِۦۚ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْۖ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَىْءٍ مِّنْ عِلْمِهِۦٓ إِلَّا بِمَا شَآءَۚ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَۖ وَلَا يَـُٔودُهُۥ حِفْظُهُمَاۚ وَهُوَ ٱلْعَلِىُّ ٱلْعَظِيمُ
اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو زنده اور سب کا تھامنے واﻻ ہے، جسے نہ اونگھ آئے نہ نیند، اس کی ملکیت میں زمین اور آسمانوں کی تمام چیزیں ہیں۔ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کرسکے، وه جانتا ہے جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اور وه اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے مگر جتنا وه چاہے[1] ، اس کی کرسی کی وسعت[2] نے زمین و آسمان کو گھیر رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ ان کی حفاﻇت سے نہ تھکتا اور نہ اکتاتا ہے، وه تو بہت بلند اور بہت بڑا ہے۔
عربی متن: Tanzil Project · ترجمہ: Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · v1.1.3
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
قُلْ هُوَ ٱللَّهُ أَحَدٌ ٱللَّهُ ٱلصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُن لَّهُۥ كُفُوًا أَحَدٌۢ
آپ کہہ دیجئے کہ وه اللہ تعالیٰ ایک (ہی) ہے. اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے.[1] نہ اس سے کوئی پیدا ہوا نہ وه کسی سے پیدا ہوا.[1] اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے.[1]
عربی متن: Tanzil Project · ترجمہ: Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · v1.1.3
مختصر بات: یہ حدیث «المعوذات» (پناہ مانگنے والی سورتیں) ہر نماز کے بعد پڑھنے کی بات کرتی ہے۔ سورہ الفلق اور الناس یقینی ہیں؛ بہت سے علماء سورہ الاخلاص کو بھی اس میں شامل کرتے ہیں، جبکہ ایک روایت میں «المعوذتان» کہا گیا ہے۔
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلْفَلَقِ مِن شَرِّ مَا خَلَقَ وَمِن شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ وَمِن شَرِّ ٱلنَّفَّـٰثَـٰتِ فِى ٱلْعُقَدِ وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ
آپ کہہ دیجئے! کہ میں صبح کے رب کی پناه میں آتا ہوں.[1] ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے.[1] اور اندھیری رات کی تاریکی کے شر سے جب اس کا اندھیرا پھیل جائے.[1] اور گره (لگا کر ان) میں پھونکنے والیوں کے شر سے (بھی).[1] اور حسد کرنے والے کی برائی سے بھی جب وه حسد کرے.[1]
عربی متن: Tanzil Project · ترجمہ: Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · v1.1.3
مختصر بات: نبی ﷺ نے ہر نماز کے بعد معوذات پڑھنے کا حکم دیا۔
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلنَّاسِ مَلِكِ ٱلنَّاسِ إِلَـٰهِ ٱلنَّاسِ مِن شَرِّ ٱلْوَسْوَاسِ ٱلْخَنَّاسِ ٱلَّذِى يُوَسْوِسُ فِى صُدُورِ ٱلنَّاسِ مِنَ ٱلْجِنَّةِ وَٱلنَّاسِ
آپ کہہ دیجئے! کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناه میں آتا ہوں.[1] لوگوں کے مالک کی[1] (اور). لوگوں کے معبود کی (پناه میں).[1] وسوسہ ڈالنے والے پیچھے ہٹ جانے والے کے شر سے.[1] جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے. (خواه) وه جن میں سے ہو یا انسان میں سے.[1]
عربی متن: Tanzil Project · ترجمہ: Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · v1.1.3
مختصر بات: نبی ﷺ نے ہر نماز کے بعد معوذات پڑھنے کا حکم دیا۔