مرکزی مواد پر جائیں
نَحفَظNahfaz
تمام اذکار

بیماری اور شفا

اپنے لیے یا کسی پیارے کے لیے جو بیمار ہو۔

فاتحہ سے دم

×۱

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ مَـٰلِكِ يَوْمِ ٱلدِّينِ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ٱهْدِنَا ٱلصِّرَٰطَ ٱلْمُسْتَقِيمَ صِرَٰطَ ٱلَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ ٱلْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا ٱلضَّآلِّينَ

شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم واﻻ ہے۔[1] سب تعریف اللہ تعالیٰ کے لئے ہے[1] جو تمام جہانوں کا پالنے واﻻ ہے۔[2] بڑا مہربان نہایت رحم کرنے واﻻ۔[1] بدلے کے دن (یعنی قیامت) کا مالک ہے۔[1] ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔[1] ہمیں سیدھی (اور سچی) راه دکھا۔[1] ان لوگوں کی راه جن پر تو نے انعام کیا[1] ان کی نہیں جن پر غضب کیا گیا (یعنی وه لوگ جنہوں نے حق کو پہچانا، مگر اس پر عمل پیرا نہیں ہوئے) اور نہ گمراہوں کی[2] (یعنی وه لوگ جو جہالت کے سبب راه حق سے برگشتہ ہوگئے)۔

مختصر بات: نبی ﷺ نے سورۂ فاتحہ سے دم کرنے کی تائید فرمائی۔

پناہ کے لیے سورۂ فلق

×۱

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلْفَلَقِ مِن شَرِّ مَا خَلَقَ وَمِن شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ وَمِن شَرِّ ٱلنَّفَّـٰثَـٰتِ فِى ٱلْعُقَدِ وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ

آپ کہہ دیجئے! کہ میں صبح کے رب کی پناه میں آتا ہوں.[1] ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے.[1] اور اندھیری رات کی تاریکی کے شر سے جب اس کا اندھیرا پھیل جائے.[1] اور گره (لگا کر ان) میں پھونکنے والیوں کے شر سے (بھی).[1] اور حسد کرنے والے کی برائی سے بھی جب وه حسد کرے.[1]

مختصر بات: نبی ﷺ بیماری میں پناہ کی سورتیں پڑھ کر اپنے اوپر پھونکتے تھے۔

پناہ کے لیے سورۂ ناس

×۱

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلنَّاسِ مَلِكِ ٱلنَّاسِ إِلَـٰهِ ٱلنَّاسِ مِن شَرِّ ٱلْوَسْوَاسِ ٱلْخَنَّاسِ ٱلَّذِى يُوَسْوِسُ فِى صُدُورِ ٱلنَّاسِ مِنَ ٱلْجِنَّةِ وَٱلنَّاسِ

آپ کہہ دیجئے! کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناه میں آتا ہوں.[1] لوگوں کے مالک کی[1] (اور). لوگوں کے معبود کی (پناه میں).[1] وسوسہ ڈالنے والے پیچھے ہٹ جانے والے کے شر سے.[1] جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے. (خواه) وه جن میں سے ہو یا انسان میں سے.[1]

مختصر بات: نبی ﷺ بیماری میں پناہ کی سورتیں پڑھ کر اپنے اوپر پھونکتے تھے۔

شفا کی دعا

×۱

أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ، اشْفِ وَأَنْتَ الشَّافِي، لاَ شِفَاءَ إِلاَّ شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لاَ يُغَادِرُ سَقَمًا

اے لوگوں کے رب، بیماری دور فرما۔ شفا عطا فرما، تو ہی شفا دینے والا ہے۔ تیری شفا کے سوا کوئی شفا نہیں، ایسی شفا جو کوئی بیماری باقی نہ چھوڑے۔

مختصر بات: نبی ﷺ جب کسی بیمار کے پاس جاتے یا بیمار آپ کے پاس لایا جاتا تو یہ کہتے تھے۔

تکلیف سے پناہ

×۷

أَعُوذُ بِاللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ

میں جو تکلیف محسوس کرتا ہوں اور جس سے ڈرتا ہوں، اس کے شر سے اللہ اور اس کی قدرت کی پناہ لیتا ہوں۔

درد کی جگہ پر ہاتھ رکھیں؛ تین بار «بسم اللہ» کہیں، پھر یہ دعا سات بار کہیں۔

مختصر بات: درد کی جگہ ہاتھ رکھ کر بسم اللہ تین بار کہنے کے بعد یہ سات بار کہیں۔

گھر والوں کو بھیجیں

کسی عزیز کے ساتھ ذکر بانٹیں۔