اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو زنده اور سب کا تھامنے واﻻ ہے، جسے نہ اونگھ آئے نہ نیند، اس کی ملکیت میں زمین اور آسمانوں کی تمام چیزیں ہیں۔ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کرسکے، وه جانتا ہے جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اور وه اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے مگر جتنا وه چاہے[1] ، اس کی کرسی کی وسعت[2] نے زمین و آسمان کو گھیر رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ ان کی حفاﻇت سے نہ تھکتا اور نہ اکتاتا ہے، وه تو بہت بلند اور بہت بڑا ہے۔
آپ کہہ دیجئے! کہ میں صبح کے رب کی پناه میں آتا ہوں.[1]
ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے.[1]
اور اندھیری رات کی تاریکی کے شر سے جب اس کا اندھیرا پھیل جائے.[1]
اور گره (لگا کر ان) میں پھونکنے والیوں کے شر سے (بھی).[1]
اور حسد کرنے والے کی برائی سے بھی جب وه حسد کرے.[1]
آپ کہہ دیجئے! کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناه میں آتا ہوں.[1]
لوگوں کے مالک کی[1] (اور).
لوگوں کے معبود کی (پناه میں).[1]
وسوسہ ڈالنے والے پیچھے ہٹ جانے والے کے شر سے.[1]
جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے.
(خواه) وه جن میں سے ہو یا انسان میں سے.[1]
اے اللہ، تو میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ تو نے مجھے بنایا، میں تیرا بندہ ہوں۔ جہاں تک ہو سکے تیرے عہد اور وعدے پر قائم ہوں۔ میرے کیے ہوئے برے کاموں سے مجھے بچا۔ میں تیری نعمتیں اور اپنا گناہ مانتا ہوں۔ مجھے بخش دے، تیرے سوا کوئی گناہ نہیں بخشتا۔
ہم نے صبح پائی، بادشاہی اور حمد اللہ ہی کی ہے۔ صرف اللہ عبادت کے لائق ہے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ بادشاہی اور حمد اسی کی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ میرے رب، اس دن اور اس کے بعد کی بھلائی دے اور ان کے شر سے بچا۔ سستی، بڑھاپے کی خرابی، آگ اور قبر کے عذاب سے پناہ دے۔
اے اللہ، آسمانوں اور زمین کے بنانے والے، چھپی اور کھلی باتوں کو جاننے والے، ہر چیز کے رب اور مالک، میں گواہی دیتا ہوں کہ صرف تو عبادت کے لائق ہے۔ میرے نفس کے شر، شیطان کے شر اور اس کے شرک کی دعوت سے مجھے پناہ دے۔
اے اللہ، دنیا اور آخرت میں عافیت دے۔ میرے دین، دنیا، گھر والوں اور مال میں معافی اور عافیت دے۔ میرے عیب ڈھانپ دے اور ڈر دور کر دے۔ آگے، پیچھے، دائیں، بائیں اور اوپر سے میری حفاظت فرما۔ اور میں تیری عظمت کی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں نیچے سے اچانک ہلاک کیا جاؤں۔