اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو زنده اور سب کا تھامنے واﻻ ہے، جسے نہ اونگھ آئے نہ نیند، اس کی ملکیت میں زمین اور آسمانوں کی تمام چیزیں ہیں۔ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کرسکے، وه جانتا ہے جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اور وه اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے مگر جتنا وه چاہے[1] ، اس کی کرسی کی وسعت[2] نے زمین و آسمان کو گھیر رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ ان کی حفاﻇت سے نہ تھکتا اور نہ اکتاتا ہے، وه تو بہت بلند اور بہت بڑا ہے۔
رسول ایمان ﻻیا اس چیز پر جو اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے اتری اور مومن بھی ایمان ﻻئے، یہ سب اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان ﻻئے، اس کے رسولوں میں سے کسی میں ہم تفریق نہیں کرتے، انہوں نے کہہ دیا کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی، ہم تیری بخشش طلب کرتے ہیں اے ہمارے رب! اور ہمیں تیری ہی طرف لوٹنا ہے،
اللہ تعالیٰ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیاده تکلیف نہیں دیتا، جو نیکی وه کرے وه اس کے لئے اور جو برائی وه کرے وه اس پر ہے، اے ہمارے رب! اگر ہم بھول گئے ہوں یا خطا کی ہو تو ہمیں نہ پکڑنا، اے ہمارے رب! ہم پر وه بوجھ نہ ڈال جو ہم سے پہلے لوگوں پر ڈاﻻ تھا، اے ہمارے رب! ہم پر وه بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں طاقت نہ ہو اور ہم سے درگزر فرما! اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر! تو ہی ہمارا مالک ہے، ہمیں کافروں کی قوم پر غلبہ عطا فرما۔
آپ کہہ دیجئے! کہ میں صبح کے رب کی پناه میں آتا ہوں.[1]
ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے.[1]
اور اندھیری رات کی تاریکی کے شر سے جب اس کا اندھیرا پھیل جائے.[1]
اور گره (لگا کر ان) میں پھونکنے والیوں کے شر سے (بھی).[1]
اور حسد کرنے والے کی برائی سے بھی جب وه حسد کرے.[1]
آپ کہہ دیجئے! کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناه میں آتا ہوں.[1]
لوگوں کے مالک کی[1] (اور).
لوگوں کے معبود کی (پناه میں).[1]
وسوسہ ڈالنے والے پیچھے ہٹ جانے والے کے شر سے.[1]
جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے.
(خواه) وه جن میں سے ہو یا انسان میں سے.[1]
الم.
بلاشبہ اس کتاب کا اتارنا تمام جہانوں کے پروردگار کی طرف سے ہے.[1]
کیا یہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے[1] ۔ (نہیں نہیں) بلکہ یہ تیرے رب تعالیٰ کی طرف سے حق ہے تاکہ آپ انہیں ڈرائیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے واﻻ نہیں آیا[2]۔ تاکہ وه راه راست پر آجائیں.
اللہ تعالیٰ وه ہے جس نے آسمان وزمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کو چھ دن میں پیدا کر دیا پھر عرش پر قائم ہوا[1] ، تمہارے لئے اس کے سوا کوئی مددگار اور سفارشی نہیں[2]۔ کیا پھر بھی تم نصیحت حاصل نہیں کرتے.[3]
وه آسمان سے لے کر زمین تک (ہر) کام کی تدبیر کرتا ہے[1] ۔ پھر (وه کام) ایک ایسے دن میں اس کی طرف چڑھ جاتا ہے جس کا اندازه تمہاری گنتی کے ایک ہزار سال کے برابر ہے.[2]
یہی ہے چھپے کھلے کا جاننے واﻻ، زبردست غالب بہت ہی مہربان.
جس نے نہایت خوب بنائی جو چیز بھی بنائی[1] اور انسان کی بناوٹ مٹی سے شروع کی.[2]
پھر اس کی نسل ایک بے وقعت پانی کے نچوڑ سے چلائی.[1]
جسے ٹھیک ٹھاک کر کے اس میں اپنی روح پھونکی[1] ، اسی نے تمہارے کان آنکھیں اور دل بنائے[2] (اس پر بھی) تم بہت ہی تھوڑا احسان مانتے ہو.[3]
انہوں نے کہا کیا جب ہم زمین میں مل جائیں[1] گے کیا پھر نئی پیدائش میں آجائیں گے؟ بلکہ (بات یہ ہے) کہ وه لوگ اپنے پروردگار کی ملاقات کے منکر ہیں.
کہہ دیجئے! کہ تمہیں موت کا فرشتہ فوت کرے گا جو تم پر مقرر کیا گیا ہے[1] . پھر تم سب اپنے پروردگار کی طرف لوٹائے جاؤ گے.
کاش کہ آپ دیکھتے جب کہ گناه گار لوگ اپنے رب تعالیٰ کے سامنے سر جھکائے ہوئے ہوں[1] گے، کہیں گے اے ہمارے رب! ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا اب[2] تو ہمیں واپس لوٹا دے ہم نیک اعمال کریں گے ہم یقین کرنے والے ہیں.[3]
اگر ہم چاہتے تو ہر شخص کو ہدایت نصیب[1] فرما دیتے، لیکن میری یہ بات بالکل حق ہو چکی ہے کہ میں ضرور ضرور جہنم کو انسانوں اور جنوں سے پر کردوں گا.[2]
اب تم اپنے اس دن کی ملاقات کے فراموش کر دینے کا مزه چکھو، ہم نے بھی تمہیں بھلا دیا[1] اور اپنے کیے ہوئے اعمال (کی شامت) سے ابدی عذاب کا مزه چکھو.
ہماری آیتوں پر وہی ایمان ﻻتے ہیں[1] جنہیں جب کبھی ان سے نصیحت کی جاتی ہے تو وه سجدے میں گر پڑتے ہیں[2] اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح پڑھتے ہیں[3] اور تکبر نہیں کرتے ہیں.[4]
ان کی کروٹیں اپنے بستروں سے الگ رہتی ہیں[1] اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں[2] اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے وه خرچ کرتے ہیں.[3]
کوئی نفس نہیں جانتا جو کچھ ہم نے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ان کے لئے پوشیده کر رکھی ہے[1] ، جو کچھ کرتے تھے یہ اس کا بدلہ ہے.[2]
کیا وه جو مومن ہو مثل اس کے ہے جو فاسق ہو[1] ؟ یہ برابر نہیں ہو سکتے.
جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور نیک اعمال بھی کیے ان کے لئے ہمیشگی والی جنتیں ہیں، مہمانداری ہے ان کے اعمال کے بدلے جو وه کرتے تھے.
لیکن جن لوگوں نے حکم عدولی کی ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ جب کبھی اس سے باہر نکلنا چاہیں گے اسی میں لوٹا دیئے جائیں گے[1] ۔ اور کہہ دیا جائے گا کہ[2] اپنے جھٹلانے کے بدلے آگ کا عذاب چکھو.
بالیقین ہم انہیں قریب کے چھوٹے سے بعض عذاب[1] اس بڑے عذاب کے سوا چکھائیں گے تاکہ وه لوٹ آئیں.[2]
اس سے بڑھ کر ﻇالم کون ہے جسے اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے وعﻆ کیا گیا پھر[1] بھی اس نے ان سے منھ پھیر لیا، (یقین مانو) کہ ہم بھی گناه گاروں سے انتقام لینے والے ہیں.
بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب دی، پس آپ کو ہرگز اس کی ملاقات میں شک[1] نہ کرنا چاہئے اور ہم نے اسے[2] بنی اسرائیل کی ہدایت کا ذریعہ بنایا.
اور جب ان لوگوں نے صبر کیا تو ہم نے ان میں سے ایسے پیشوا بنائے جو ہمارے حکم سے لوگوں کو ہدایت کرتے تھے، اور وه ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے.[1]
آپ کا رب ان (سب) کے درمیان ان (تمام) باتوں کا فیصلہ قیامت کے دن کرے گا جن میں وه اختلاف کر رہے ہیں.[1]
کیا اس بات نے بھی انہیں ہدایت نہیں دی کہ ہم نے ان سے پہلے بہت سی امتوں کو ہلاک کر دیا جن کے مکانوں میں یہ چل پھر رہے ہیں[1] ۔ اس میں تو (بڑی) بڑی نشانیاں ہیں۔ کیا پھر بھی یہ نہیں سنتے؟
کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم پانی کو بنجر (غیر آباد) زمین کی طرف بہا کر لے جاتے ہیں پھر اس سے ہم کھیتیاں نکالتے ہیں جسے ان کے چوپائے اور یہ خود کھاتے ہیں[1] ، کیا پھر بھی یہ نہیں دیکھتے؟
اور کہتے ہیں کہ یہ فیصلہ کب ہوگا؟ اگر تم سچے ہو (تو بتلاؤ).[1]
جواب دے دو کہ فیصلے والے دن ایمان ﻻنا بے ایمانوں کو کچھ کام نہ آئے گا اور نہ انہیں ڈھیل دی جائے گی.[1]
اب آپ ان کا خیال چھوڑ دیں[1] اور منتظر رہیں[2]۔ یہ بھی منتظر ہیں.[3]
بہت بابرکت ہے وه (اللہ) جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے[1] اور جو ہر چیز پر قدرت رکھنے واﻻ ہے.
جس نے موت اور حیات کو اس لیے پیدا کیاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے اچھے کام کون کرتا ہے[1] ، اور وه غالب (اور) بخشنے واﻻ ہے.
جس نے سات آسمان اوپر تلے بنائے۔ (تو اے دیکھنے والے) اللہ رحمٰن کی پیدائش میں کوئی بے ضابطگی نہ دیکھے گا[1] ، دوباره (نظریں ڈال کر) دیکھ لے کیا کوئی شگاف بھی نظر آرہا ہے.[2]
پھر دوہرا کر دو دو بار دیکھ لے تیری نگاه تیری طرف ذلیل (و عاجز) ہو کر تھکی ہوئی لوٹ آئے گی.[1]
بیشک ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں (ستاروں) سے آراستہ کیا اور انہیں شیطانوں کے مارنے کا ذریعہ[1] بنا دیا اور شیطانوں کے لیے ہم نے (دوزخ کا جلانے واﻻ) عذاب تیار کر دیا.
اور اپنے رب کے ساتھ کفر کرنے والوں کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور وه کیا ہی بری جگہ ہے.
جب اس میں یہ ڈالے جائیں گے تو اس کی بڑے زور کی آواز سنیں گے اور وه جوش مار رہی ہوگی.[1]
قریب ہے کہ (ابھی) غصے کے مارے پھٹ جائے[1] ، جب کبھی اس میں کوئی گروه ڈاﻻ جائے گا اس سے جہنم کے داروغے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس ڈرانے واﻻ کوئی نہیں آیا تھا؟
وه جواب دیں گے کہ بیشک آیا تھا لیکن ہم نے اسے جھٹلایا اور ہم نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نےکچھ بھی نازل نہیں فرمایا۔ تم بہت بڑی گمراہی میں ہی ہو.[1]
اور کہیں گے اگر ہم سنتے ہوتے یا عقل رکھتے ہوتے تو دوزخیوں میں (شریک) نہ ہوتے.[1]
پس انہوں نے اپنے جرم کا اقبال کر لیا[1] ۔ اب یہ دوزخی دفع ہوں (دور ہوں).[2]
بیشک جو لوگ اپنے پروردگار سےغائبانہ طور پر ڈرتے رہتے ہیں ان کے لیے بخشش ہے اور بڑا ﺛواب ہے.[1]
تم اپنی باتوں کو چھپاؤ یا ﻇاہر کرو[1] وه تو سینوں کی پوشیدگی کو بھی بخوبی جانتا ہے.[2]
کیا وہی نہ جانے جس نے پیدا کیا[1] ؟ پھر وه باریک بین اور باخبر بھی ہو.[2]
وه ذات جس نے تمہارے لیے زمین کو پست ومطیع کردیا[1] تاکہ تم اس کی راہوں میں چلتے پھرتے رہو[2] اور اللہ کی روزیاں کھاؤ (پیو[3]) اسی کی طرف (تمہیں) جی کر اٹھ کھڑا ہونا ہے.
کیا تم اس بات سے بے خوف ہوگئے ہو کہ آسمانوں واﻻ تمہیں زمین میں دھنسا دے اور اچانک زمین لرزنے لگے.[1]
یا کیا تم اس بات سے نڈر ہوگئے ہو کہ آسمانوں واﻻ تم پر پتھر برسادے[1] ؟ پھر تو تمہیں معلوم ہو ہی جائے گا کہ میرا ڈرانا کیسا تھا.[2]
اوران سے پہلے لوگوں نے بھی جھٹلایا تھا تو دیکھو ان پر میرا عذاب کیسا کچھ ہوا؟
کیا یہ اپنے اوپر پر کھولے ہوئے اور (کبھی کبھی) سمیٹے ہوئے (اڑنے والے) پرندوں کو نہیں دیکھتے[1] ، انہیں (اللہ) رحمٰن ہی (ہوا وفضا میں) تھامے ہوئے ہے[2]۔ بیشک ہر چیز اس کی نگاه میں ہے.
سوائے اللہ کے تمہارا وه کون سا لشکر ہے جو تمہاری مدد کرسکے[1] کافر تو سراسر دھوکے ہی میں ہیں.[2]
اگر اللہ تعالیٰ اپنی روزی روک لے تو بتاؤ کون ہے جو پھر تمہیں روزی دے گا[1] ؟ بلکہ (کافر) تو سرکشی اور بدکنے پر اڑگئے ہیں.[2]
اچھا وه شخص زیاده ہدایت واﻻ ہے جو اپنے منھ کے بل اوندھا ہو کر چلے[1] یا وه جو سیدھا (پیروں کے بل) راه راست پر چلا ہو؟[2]
کہہ دیجئے کہ وہی (اللہ) ہے جس نے تمہیں پیدا کیا[1] اور تمہارے کان آنکھیں اور دل بنائے[2] تم بہت ہی کم شکر گزاری کرتے ہو.[3]
کہہ دیجئے! کہ وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلا دیا اور اس کی طرف سے تم اکٹھے کیے جاؤ گے.[1]
(کافر) پوچھتے ہیں کہ وه وعده کب ﻇاہر ہوگا اگر تم سچے ہو (تو بتاؤ؟)[1]
آپ کہہ دیجئے کہ اس کا علم تو اللہ ہی کو ہے[1] ، میں تو صرف کھلے طور پر آگاه کر دینے واﻻ ہوں.[2]
جب یہ لوگ اس[1] وعدے کو قریب تر پالیں گے اس وقت ان کافروں کے چہرے بگڑ جائیں گے[2] اور کہہ دیا جائے گا کہ یہی ہے جسے تم طلب کیا کرتے تھے.[3]
آپ کہہ دیجئے! اچھا اگر مجھے اور میرے ساتھیوں کو اللہ تعالیٰ ہلاک کردے یا ہم پر رحم کرے (بہر صورت یہ تو بتاؤ) کہ کافروں کو دردناک عذاب سے کون بچائے گا؟[1]
آپ کہہ دیجئے! کہ وہی رحمٰن ہے ہم تو اس پر ایمان ﻻچکے[1] اور اسی پر ہمارا بھروسہ ہے[2]۔ تمہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ صریح گمراہی میں کون ہے؟[3]
آپ کہہ دیجئے! کہ اچھا یہ تو بتاؤ کہ اگر تمہارے (پینے کا) پانی زمین میں اتر جائے تو کون ہے جو تمہارے لیے نتھرا ہوا پانی ﻻئے؟[1]
آپ کہہ دیجئے کہ اے کافرو![1]
نہ میں عبادت کرتا ہوں اس کی جس کی تم عبادت کرتے ہو.
نہ تم عبادت کرنے والے ہو اس کی جس کی میں عبادت کرتا ہوں.
اور نہ میں عبادت کروں گا جس کی تم عبادت کرتے ہو.
اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کر رہا ہوں.[1]
تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرا دین ہے.[1]
اے اللہ، آسمانوں اور زمین کے بنانے والے، چھپی اور کھلی باتوں کو جاننے والے، ہر چیز کے رب اور مالک، میں گواہی دیتا ہوں کہ صرف تو عبادت کے لائق ہے۔ میرے نفس کے شر، شیطان کے شر اور اس کے شرک کی دعوت سے مجھے پناہ دے۔
اے اللہ، میں نے اپنا رخ تیری طرف کر دیا، اپنا معاملہ تیرے سپرد کیا اور تیری پناہ لی، تجھ سے امید اور خوف رکھتے ہوئے۔ تجھ سے بچنے کی پناہ اور راہ تیرے سوا کہیں نہیں۔ میں تیری اتاری ہوئی کتاب اور تیرے بھیجے ہوئے نبی پر ایمان لایا۔